یہ ویب سائٹ زیر تکمیل ہے

باب نمبردو ۔ صفحہ نمبر ایک

باب نمبردو : نیا عقیدہ 

ایک شخص مکہ کی گلیوں میں اکثر دکھائی دیتا تھا ۔اسکا تعلق بنو ہاشم سے تھا ۔ اسکی شخصیت جاذب نظر ،قد درمیانہ، کندھےکشادہ و مضبوط اور بال کندھوں تک لمبے تھے ۔ اسکی گہرے رنگ کی آنکھیں متفکر اور اداس دکھائی دیتی تھیں۔ 

عرب معاشرے میں بہت کچھ ایسا تھا جو اسکے لئے باعث تکلیف تھا ۔ ہر طرف موجود زوال، ظلم ، نا انصافی اور قتل و غارت اسکے سامنے تھا ۔ خواتین کے ساتھ ہونے والا سلوک تو جانوروں سے بھی بدتر تھا۔ جب اسے کسی بچی کے زندہ دفن کر دئیے جانے کی خبر ملتی تو اسے سخت صدمہ پہنچتا۔ 

عربوں کے کچھ قبائل میں بچیوں کو قتل کرنے کی سفاکانہ رسم چل نکلی تھی۔ باپ اپنی بچی کو پانچ یا چھ سال کی عمر تک بڑھنے دیتا اور پھر ایک دن اسے بستی سے دور ایک جگہ لے جاتا جہاں اسکی قبر پہلے سے کھودی جا چکی ہوتی۔ اس معصوم کو قتل کرنے کے بعدوہ اسے زمین میں دبا دیتا۔ ان میں کچھ بدبخت ایسے بھی تھے جو بعد میں اپنے اس غیر انسانی فعل کا ذکر فخر کے ساتھ کرتے ۔ 
یہ رسم عرب میں عام نہیں تھی۔ قریش کی تاریخ میں ایسا ایک بھی واقعہ نہیں سنا گیا۔ اس طرح کے واقعات صحرا کے بدو قبائل میں پیش آتے لیکن ایک دل و دماغ رکھنے والے عرب کے لئے اس طرح کا کوئی اکا دکا واقعہ بھی طبیعت کو اداس اور بوجھل کر دینے کے لئے کافی تھا ۔
مکہ کو بت پرستی کا مرکز بنا دیا گیا تھا ۔کعبہ کو اللہ کے نبی ابراہیم ؑ نے اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا تھا لیکن اسے لکڑی اور پتھر سے بنائے گئے ناپاک بتوں سے بھر دیا گیا تھا ۔ انکی پرستش کی جاتی اور ان کو راضی کرنے کے لئے نذرونیاز کا انتظام کیاجاتا۔ کعبہ کے اندر اور اردگرد 360 بت موجود تھے جن میں سب سے اہم لات، عزیٰ اور حبل تھے ۔ حبل جو اس نظام کی سب سے نمایاں علامت تھا حجم کے لحاظ سے بھی باقی سب بتوں سے بڑا تھا ۔ اسے سرخ رنگ کے قیمتی عقیق سے تراشا گیا تھا ۔ شام سے درآمد کیا جانے والا یہ بت بغیر سیدھے ہاتھ کے تھا لہٰذا ایک سونے کا ہاتھ تیار کر کے اسےبت کے اندر لگایا گیاتھا ۔

عربوں کا مذہبی عقیدہ مشرکانہ تھا جس میں بتوں کی پرستش کی جاتی لیکن اللہ کے وجود کو بھی مانا جاتا تھا ۔ان کا ماننا تھا کہ اللہ سچا خدا اور خالق ہے جبکہ یہ بت اسکے بیٹے اور بیٹیاں ہیں ۔ وہ اسکو ایک شوریٰ کی طرح دیکھتے تھے جس میں اللہ کی حیثیت مجلس کے صدر جیسی ہو۔ قسم کھاتے وقت کبھی اللہ کا نام استعمال کیا جاتا اور کبھی کسی بت کا۔ بچوں کے نام بھی اسی طرز پر رکھے جاتے مثلاً عبداللہ یعنی اللہ کا بند یا عبدالعزیٰ یعنی عزیٰ کا بندہ۔
یہ کہنا بھی درست نہ ہوگا کہ عرب معاشرہ محض برائی پر مشتمل تھا ۔ عربوں کے کردار میں ایسی چیزیں بھی تھیں جو قابل تحسین تھیں۔ عرب مہمان نواز، باہمت اور عزت نفس رکھنے والے لوگ تھے ۔ وہ اپنی ذاتی اور قبیلے کی عزت کے معاملے میں حساس تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ خاندانی عداوتیں نسل در نسل خون خرابے کا باعث بنتی تھیں ۔ یہ طرز عمل نہ صرف قابل فہم بلکہ ضروری بھی تھا کیونکہ کسی مرکزی حکومت کے بغیر چلنے والے قبائلی نظام میں امن و امان قائم رکھنے کا بظاہر کوئی دوسرا راستہ نہ تھا ۔

عرب معاشرے کے نقائص اسکے مذہبی اور اخلاقی نظام میں تھے جہاں یہ معاشرہ زوال کی انتہا کو پہنچ چکا تھا ۔ یہ زمانہ تاریخ میں زمانہ جاہلیت کے نام سے جانا گیا ۔ ان کے اعمال اور عقائد سب جہالت پر مبنی تھے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب جاہلیت محض ایک زمانہ ہی نہیں بلکہ ایک طرز زندگی کا روپ دھار چکی تھی ۔
اس باب کے آغاز میں جس شخص کا ذکر ہوا ہے وہ مکہ سے کچھ فاصلے پر موجود غار حرا میں جاتا جہاں وہ پوری ذہنی یکسوئی سے اس کائنات کے اسرار و رموز پر تفکروتدبر کرتا ۔ ایک دن جب وہ غار میں موجود تھا تو اسے غار میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔ 

"پڑھو" ایک غائبانہ آواز آئی ۔ 

"میں پڑھ نہیں سکتا" اس نےجواب دیا ۔ 

"پڑھو" اسی آواز نے دھرایا ۔ 

"میں پڑھ نہیں سکتا" اس نے پھر جواب دیا ۔ 

"پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ۔ آدمی کو خون کی پھٹک سے بنایا ۔ پڑھو اور تمھارا رب ہی سب سے بڑاکریم ہے ۔ جس نے سکھایا قلم کے ذریعے سے ۔ سکھایا انسان کو وہ کچھ جووہ نہ جانتا تھا ۔"

(سورۃالعلق،آیات 1 تا 5)

اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ و الہ سلم پر پہلی وحی کا نزول اگست 610 عیسوی میں ہوا ۔ یہ ایک نئی دنیا کا نقطہ آغاز تھا ۔ خالد کی عمر اس وقت 24 برس تھی ۔
تین سال تک رسولؐ پر وحی کا نزول ہوتا رہا اور پھر آپؐ نے اللہ کے پیغام کو عام کرنا شروع کیا ۔ آپؐ نے اپنے خاندان سے اس دعوت کا آغاز کیا ۔اکثریت نے آپ ؐ کی دعوت کو رد کر دیا اور مذاق اڑایا ۔ 

ایک دن رسولؐ نےاپنے قریبی عزیزوں کو جمع کیا اور ان کے لئے کھانے کا اہتمام کیا تاکہ ان کو اللہ کا پیغام پہنچایا جا سکے۔ کھانے کاانتظام بطریق احسن ہو ا ۔ کھانے کے بعد آپؐ نے حاضرین کو مخاطب کر کے فرمایا ،"اے عبدالمطلب کے بیٹو! اللہ گواہ ہے کہ عربوں میں سے کبھی اس سے بہتر پیغام لے کر تمھاری طرف نہیں آیا جو میں تمھارے لئے لایا ہوں ۔ اس میں تمھاری اس زندگی کی بہتری بھی ہے اور اسکے بعد آنے والی زندکی کی بھی ۔ مجھے اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے کہ تمہیں اسکی طرف بلاؤں ۔کون ہے جو اس کام میں میرا حامی اور مددگار بنےگا ؟"

محفل پر سناٹا چھا گیا ۔ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ اور پھر ایک کمزور سا کم عمر لڑکا کھڑا ہوا،"میں بنوں گاآپکا مددگار اللہ کے رسول" اسنے اپنی پتلی سی آواز میں کہا ۔ 

ایک قہقہ بلند ہوا ۔ سب مہمان تضحیک آمیز انداز میں ہنسنے لگے اور کچھ دیرکے بعد وہ ایک ایک کر کے باہر نکل گئے۔لیکن لڑکا اس بداخلاقی سے بے پرواہ کھڑا رہا۔ اور اگلے ہی لمحےرسولؐ نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔ آپؐ نے فرمایا،"ہاں یہی ہے میرا دوست اور مددگار"۔ یہ لڑکارسولؐ کا چچازاد بھائی علی ابن ابوطالب تھا۔13 سال کا یہ لڑکا رسولؐ پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھا۔
رفتہ رفتہ اسلام پھیلنے لگا اور کچھ لوگ جن میں اکثر نوجوان یا بے یارومددگار تھے ایمان لے آئے۔ انکی تعداد کم تھی لیکن جذبہ بلند تھا۔ اسطرح رسولؐ کا دائرہ اثر بڑھنے لگا۔ قریش مکہ کی طرف سے پیدا کی گئی رکاوٹوں اور بداخلاقیوں کے باوجود آپؐ نے گلیوں اور بازاروں میں دین حق کی دعوت جاری رکھی اور برائی کے راستے پر چلنے والوں کو جہنم کی آگ سے ڈراتے رہے۔ آپؐ انکو بتوں کی پرستش چھوڑ کر سچے خدا کی عبادت کی تلقین کرتے رہے۔رسولؐ کی سرگرمیاں بڑھنے کے ساتھ ساتھ قریش کی طرف سے مزاہمت بھی شدیدتر ہوتی گئی۔اس مزاہمت کی قیادت چار افراد کر رہے تھے۔ ابوسفیان(بنوامیہ کا سردار جسکا اپنا نام سخر بن حرب تھا)،الولید(خالد کا باپ)، ابولہب(رسولؐ کاچچا) اور ابوالحکم(جسکا ذکر پہلے ہوچکا)۔
ابو سفیان اور الولید قدرے باعزت اورمہذب لوگ تھے۔ وہ رسولؐ کی مخالفت تو کرتے لیکن گھٹیا اور پرتشدد حرکتوں سے گریز کرتے۔الولید کا پہلا ردعمل ناراضی کے اظہار کا تھا،"نبوت محمد کو دے دی گئی ہے اور میں جو قریش کا سب سے معزز آدمی ہوں ، مجھے کچھ نہیں ملا؟ اور بنو ثقیف کا سردار ابو مسعود بھی تو تھا، ہم دونوں سے بڑھ کر تو اس علاقے میں کوئی نہیں ہے۔" یہ بزرگ آدمی اپنی ہی ایک دنیا میں مگن رہتا تھا جہاں خاندانی رتبہ اور جاہ و جلال ہی سب کچھ تھا۔حالانکہ اس لحاظ سے بھی اسکا رسولؐ پر کیا جانے والا اعتراض غیر منصفانہ تھا کیونکہ اسکا اپنا نسب بھی چھٹی پشت پر جا کر رسولؐ سے جا ملتا تھا لہٰذا رسولؐ بھی اخاندنی لحاظ سے اتنے ہی معزز تھےبلکہ رسولؐ کا خاندان اس سے بھی زیادہ معزز تھا کیونکہ آپؐ کے دادا عبدالمطلب قریش مکہ کے سب سے بڑے سردارتھے۔

مورخ ابن ہشام کے مطابق قرآن کی مندرجہ ذیل آیات الولیدکے اس اعتراض پر نازل کی گئیں:

"اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن دو شہروں کے کسی بڑےآدمی پر" (سورۃالزخرف،آیت31)

یہ دو شہر مکہ اور طائف تھے۔ ایک اور جگہ بھی قرآن میں بھی الولید کا ذکر ہے جس کا لقب الوحید تھا۔

"اسے مجھ پر چھوڑ جسے میں نے وحید پیدا کیا۔ اور اسے وسیع مال دیا۔ اور بیٹے دیئے سامنے حاضر رہتے۔اور میں نے اس کے لئے طرح طرح کی تیاریاں کیں۔پھر یہ طمع کرتا ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ہرگز نہیں وہ تو میری آیتوں سے عناد رکھتا ہے۔قریب ہے کہ میں اسے آگ کے پہاڑ صعود پر چڑھاؤں۔بے شک وہ سوچا اور دل میں کچھ بات ٹھہرائی۔تو اس پر ہلاکت ہو کیسی ٹھہرائی۔ پھر اس پر ہلاکت ہو کیسی ٹھہرائی۔پھر نظر اٹھا کر دیکھا۔پھر تیوری چڑھائی اور منہ بگاڑا۔ پھر پیٹھ پھیری اور تکبر کیا۔پھر بولا یہ تو وہی جادو ہے اگلوں سے سیکھا۔یہ نہیں مگر آدمی کا کلام۔کوئی دم جاتا ہے کہ میں اسے دوزخ میں دھنساتا ہوں۔"  سورۃ المدثر، آیات 11 سے 26
اسلام کے دشمنوں میں سب سے خونخوار اور کینہ پرور ابوالحکم تھاجو خالد کا رشتہ دار اور دوست تھا۔ اسکی اسلام دشمنی کی بناء پر اسے مسلمانوں نے ابوجہل (یعنی جہالت کا باپ)کا لقب دیااور بعد میں وہ اسی نام سے جانا گیا۔وہ ایک چھوٹے قدوقامت اور دبلے پتلے لیکن مضبوط جسم کا مالک تھا۔ تاریخی حوالوں میں اسے آہنی چہرے والا، آہنی نظر والا اور آہنی زبان والا جیسے الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے۔ ابو جہل یہ بات کبھی نہ بھول سکا تھا کہ لڑکپن میں محمدؐ نے اسے کشتی کے ایک مقابلے میں بری طرح زمین پر پٹخ دیا تھا جس سےاسکے گھٹنے پر کاری زخم آیا تھا جسکا نشان مرتے دم تک اسکے جسم پررہا۔
قریش کے یہ با اثر افراد جب رسولؐ کو دھمکانے اور لالچ دینے کے باوجود باز رکھنے میں ناکام ہو گئے توبنو ہاشم کے بوڑھے اور قابل احترام سردار ابو طالب کے ہاں جا پہنچے۔ وہ رسولؐ کو قتل کرنے کرنا چاہتے تھے لیکن قبائل میں موجود خاندانی عصبیت اور اتفاق انکےآڑے آتاتھا۔ محمدؐ کے قتل کے بعد بنو ہاشم سے انکی خاندانی دشمنی کا آغاز ہو جاتا اوربنو ہاشم ضرور اسکا بدلہ لیتے۔

قریش کا وفد ابوطالب سے مخاطب ہوا،"اے ابوطالب! تم ہمارے سردار ہو اور ہم میں سب سے زیادہ معزز ہو۔تم نے دیکھ لیا ہے کہ تمھارے بھائی کا بیٹا ہمارے مذہب کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ وہ ہمارے خداؤں کی توہین کرتا ہےاور ہمارے آبائی عقائد کی تحقیر کرتا ہے۔ تمھارا بھی وہی عقیدہ ہے جو ہمارا ہے۔ محمد ؐ کو اپنی سرگرمیوں سے روک لو یا ہمیں اجازت دو کہ ہم خود اس سے نبٹ لیں۔"

ابوطالب نے ان کی اچھی طرح تواضع کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرےگا۔ ابوطالب نے رسولؐ تک قریش کا پیغام پہنچایا لیکن آپ کو دین حق کی دعوت سے باز نہ رکھ سکا۔ ابوطالب ایک شاعر اور نرم دل انسان تھا۔ جب بھی اسطرح کا کوئی مسئلہ پیش آتا وہ ایک لمبی غزل لکھتا جس میں اپنی تمام پریشانیوں کا ذکر کرتا۔
الولید کے گھر میں رسولؐ کی سرگرمیاں گفتگو کا موضوع رہنے لگیں۔ وہ شام کو اپنے بیٹوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ بیٹھتا اور ان تمام کوششوں کا احوال بیان کرتا جو قریش رسولؐ کی تحریک کو روکنے کے لئے کر رہے تھے۔خالد اور اسکے بھائیوں تک بھی قریش کے ابوطالب کے پاس جانے والے وفد کی خبر پہنچی۔ کچھ عرصے بعد دوسرا وفد بھیجا گیا جس کے وہی نتائج نکلے جو پہلے وفد کے تھے۔رسولؐ نے اپنی تحریک جاری رکھی۔

پھر الولید نے ایک مشکل فیصلہ کیا۔ اسنے اپنے بیٹے عمرہ کو محمدؐ کے بدلے بنو ہاشم کے سامنے پیش کیا۔عمرہ ایک کڑیل اور توانا نوجوان تھا جسے سب قبیلے والے رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔قریش کا وفد عمرہ کو لے کر ابوطالب کے پاس پہنچا۔ وفد مخاطب ہوا،"اےابوطالب! ہم عمرہ بن الولید کو لے کرتمھارے پاس آئے ہیں۔ یہ قریش کا بہترین نوجوان ہے، یہ قبیلے کے نوجوانوں میں سب سے پسندیدہ اور سب سے معزز ہے۔اسے اپنے بیٹا بنا لو۔ ہم اسے ہمیشہ کے لئے تمھارے حوالے کرتے ہیں۔ بدلے میں تم ہمیں اپنے بھائی کا بیٹا دے دو جو تمھارے اور ہمارےمذہب کے خلاف کام کر رہا ہےاور جو ہمارےقبیلے میں رنجشیں پیدا کر رہا ہے۔ہم اسے ختم کر دیں گے۔ کیا یہ ٹھیک نہیں ہے کہ ایک آدمی کو آدمی سے بدل دیا جائے؟

ابوطالب یہ سن کر سخت ناراض ہوا۔ اسنے جواب دیا۔"میرے خیال میں تو یہ سراسر ناانصافی ہے کہ تم اپنا بیٹا کھلانے پلانے اور بڑا کرنے کے لئے مجھے دے دو اور میرے بیٹے کو ماردو۔خدا کی قسم میں ایسا نہیں ہونے دوں گا"۔ منصوبہ ناکام ہو چکا تھا۔
جب قریش کو کوئی امید نہ رہی کہ وہ خود یا ابوطالب کے ذریعے سے رسولؐ کو روک سکیں تو انہوں نے آپؐ اور آپؐ کے پیروکاروں کی زندگی اجیرن بنانے کا فیصلہ کر لیا تاکہ وہ مجبور ہو کر باز آجائیں۔انہوں نے مکہ کے آوارہ لڑکوں کو آپؐ کے پیچھے لگا دیا۔ رسولؐ جہاں بھی جاتے یہ بدمعاش آپ پر آوازیں کستے اور خاک پھینکتے۔کبھی آپؐ کی راہ میں کانٹے بچھاتے اور کبھی آپؐ کے گھر میں گند پھینک دیتے۔یہ سب ابوجہل اور ابو لہب کہنے پر ہو رہاتھا۔

جوں جوں مسلمانوں کی تکلیفوں میں اضافہ ہوا، اسکی نئی نئی شکلیں بھی سامنے آنے لگیں۔نت نئی ترکیبیں سوچی جانے لگیں ۔ ایک شخص کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ رسولؐ کو کشتی کے مقابلےکے لئے للکارا جائے۔یہ شخص رسولؐ کا چچا تھا لیکن اسلام دشمن تھا۔ رکنہ ابن عبدیزید نامی یہ آدمی مشہور پہلوان تھا اور اپنی طاقت اور مہارت پر بہت غرور کرتا تھا۔اسے کبھی مکہ میں کسی نے مات نہیں دی تھی۔ اسنے بڑھک ماری،"اے میرے بھائی کے بیٹے! میں سمجھتا ہوں کہ تم بھی ایک مرد ہو اور جھوٹے نہیں ہو۔ آؤ اور میرے ساتھ کشتی لڑو۔ اگر تم نے مجھے گرا دیا تو میں تمھیں خدا کا نبی مان لوں گا۔" یہ آدمی دل ہی دل میں اپنے آپ کو داد دے رہا تھا کہ کیا طریقہ استعمال کیا ہے رسولؐ کی تضحیک کا۔

یا تو رسولؐ مقابلہ کی دعوت رد کر دیں گے اور ان کی قدر مکہ والوں کی نظر میں گھٹ جائے گی اور یا پھردعوت قبول کر لیں گے اور مقا بلے میں تکلیف اٹھائیں گے۔ لیکن یہ اسکی بھول ثابت ہوئی۔ آپؐ نے مقابلے کی دعوت قبول کی اور مقابلے کے دوران تین دفعہ اسے زمین پر پٹخا۔ بعد میں وہ چھچھورا شخص اپنی بات سے پھر گیا۔
رسولؐ بذات خود جسمانی ایذا سے محفوظ تھے جسکی وجہ انکے قبیلے کی حمایت تھی لیکن کچھ دوسرے مسلمان ایسے تھے جو غیر محفوظ تھے۔ وہ نہ تو کسی بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور نہ ہی خود اتنے طاقتور تھے کہ اپنا دفاع کر سکیں۔ ان میں غلام اور باندیاں بھی شامل تھے۔ ان میں سے اکثر کو قریش کے ہاتھوں تشدد اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بلال بن حمامہ جو ایک دراز قامت اور دبلا پتلاحبشی غلام تھا انہی میں سے ایک تھا۔اسے اسکا مالک امیہ بن خلف بری طرح اذیت پہنچاتاتھا۔گرمیوں کی تپتی دوپہر میں جب سورج آگ برسا رہا ہوتا، بلالؓ کو ریت پر لٹا دیا جاتا اور انکے سینے پر ایک بڑا پتھر رکھ کر انہیں سورج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا۔انکا مالک کچھ دیر بعد آتا اور بلالؓ کے تکلیف سے بگڑے ہوئے چہرے کی طرف دیکھ کر کہتا،"محمد کی پیروی کرنا چھوڑ دو اور لات اور عزیٰ کی عبادت کی طرف لوٹ آؤ"۔لیکن بلالؓ کے عزم میں کمی نہ آئی۔ امیہ بن خلف کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جلد ہی وہ اور اسکا بیٹا بدر کےمیدان میں بلالؓ کے سامنے ہونگے اور انہی کے ہاتھوں انکا خاتمہ ہونا ہے۔

Post a Comment

  © Blogger template Shush by Ourblogtemplates.com 2009

Back to TOP