باب نمبر ایک : لڑکپن
باب نمبر ایک : لڑکپن
خالد اور دراز قد لڑکے کی نظریں ایک دوسرے پر جمی ہوئی تھیں ۔ آہستہ آہستہ انہوں نے ایک دائرے میں حرکت شروع کی ۔ وہ بدستور ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے اور اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کی مخالف کو کیسے زیر کیا جائے اور اسکے داؤ سے کیسے بچا جائے ۔ ان کی آنکھوں میں کوئی دشمنی نہیں تھی ، بس ایک انہماک تھا اور جیت کا جزبہ ۔ خالد محتاط تھا کیونکہ اسکا مخالف بائیں ہاتھ والاتھا اور وہ جانتا تھا کہ بائیں ہاتھ والوں کو مقابلے میں اپنے مخالفین پر ایک قدرتی سبقت حاصل ہوتی ہے ۔
کشتی عرب کے نوجوانوں کا ایک محبوب مشغلہ تھا اور وہ اکثر ایک دوسرے سے لڑا کرتے تھے ۔ ان مقابلوں میں کوئی بغض کا عنصر نہیں تھا ۔ یہ ایک کھیل تھا اور کشتی کی تربیت کو عرب میں مردانگی کا حصہ سمجھا جاتا تھا ۔مگر یہ دونوں لڑکے اپنے ہم عمر لڑکوں میں سب سے طاقتور اور نمایاں تھے اور اس مقابلے کی مثال ہیوی ویٹ ٹائٹل کی سی تھی ۔ دونوں ہم عمر تھے اور انکی عمر دس سے پندرہ برس کے درمیان تھی ۔ انکے پسینے سے شرابور جسم سورج کی روشنی میں چمک رہے تھے ۔ درازقد لڑکا خالد سے شاید ایک انچ لمبا تھا اورانکے چہرے اسقدر مشابہ تھے کہ بعض اوقات پہچاننے میں مشکل ہوتی ۔
کچھ دیر کے مقابلے کے بعد خالد نے درازقد لڑکے کو زمین پر پٹخ دیا ۔ گرتے وقت درازقد لڑکے کی ٹانگ کے چٹخنے کی آواز آئی اوراگلے لمحے وہ زمین پر ساکت پڑا ہوا تھا ۔ اسکی ٹوٹی ہوئی ٹانگ بری طرح مڑی ہوئی تھی اور خالد اپنے اس دوست اور بھانجے کی طرف پریشانی کے عالم میں دیکھ رہا تھا ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زخم مندمل ہوگیا اور درازقد لڑکے کی ٹانگ دوبارہ صحتمند اور مضبوط ہو گئی ۔ اس نے اس واقعہ کے بعد بھی کشتی میں حصہ لیا اور اپنی طاقت اور مہارت کا لوہا منوایا ۔ دونوں کے درمیان اچھی دوستی تھی ۔ وہ دونوں ذہین ، طاقتور اور جارح مزاج ضرور تھے لیکن ان کی شخصیت میں صبر اور چالاکی کی کمی تھی ۔ وہ جو بھی کرتے، آپس میں ایک رقابت کی فضا قائم رکھتے ۔
یہاں اس درازقد لڑکے کے بارے میں جاننا ضروری ہے کیونکہ اسنے خالد کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرنا تھا ۔ یہ عمر تھا ، خطاب کا بیٹا ۔
خالد کی ولادت کے بعد اسکو جلد ہی اپنی ماں سے الگ کر کے قریش کے رواج کے مطابق صحرا کے ایک بدو قبیلے میں بھیج دیا گیا اور اسکے لئے ایک رضاعی ماں کا انتخاب کیا گیا جس کا کام اسکی پرورش کرنا تھا ۔ صحرا کی خشک اور شفاف فضا خالد کی پرشکوہ صحت اور زبردست طاقت کی بنیاد بنی جس سے وہ ساری زندگی لطف اندوز ہوا ۔ صحرا خالد کو بہت راس آیا اوریہاں خالد کو ایک عجیب فرحت کا احساس ہوتا ۔ خالد نے اپنے بچپن کا ابتدائی حصہ صحرا کے عربوں میں گزارا اور پانچ یا چھ سال کی عمر میں وہ واپس مکہ اپنے ماں باپ کے پاس لوٹ آیا ۔
بچپن میں اسکو چیچک کی بیماری کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس سے اسکو کوئی خاص فرق نہیں پڑا سوائے اسکے کہ اس کےچہرے پر ہلکے ہلکے داغ رہ گئے۔لیکن یہ داغ اسکی مردانہ وجاہت اورشخصیت پر کوئی فرق نہیں ڈالتے تھے ۔
بچپن لڑکپن میں تبدیل ہوا اور اس بات کا ادراک کر کے اس کو ایک فخر کا احساس ہوا کہ وہ ایک سردار کا بیٹا ہے ۔ اس کا باپ الولید قریش کے ایک انتہائی معزز قبیلے بنی مخذوم کا سردار تھا اور مکہ میں الوحید کے نام سے بھی جانا جاتا تھا ۔ خالد کی پرورش کی ذمہ داری اب اسکے والد نے اٹھائی اور بہت احسن طریقے سے نبھائی جسکے نتیجے میں خالد کی شخصیت ہمت، طاقت، سخاوت اور جرات کا مجموعہ بنی ۔الولید اپنےآباءواجداد اور شجرہ نسب پر بہت فخر کرتا اور خالد کو بتاتا کہ وہ خالد بن الولید بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم بن یقزہ بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فھر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان بن اد بن مقوم بن ناحور بن تيرح بن يعرب بن یشجب بن نابت بن اسماعیل بن ابراھیم بن آزر بن ناحور بن ساروغ بن ارغو بن قانغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشز بن سام بن نوح بن لمک بن متوشلخ بن اخنوخ بن یارد بن مھلاییل بن قنانن بن انوش بن شیث بن آدم ہے ۔
قریش مکہ کا بہت بڑا قبیلہ تھا جو اپنی اہمیت اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے تین شاخوں میں تقسیم ہوتا تھا ۔ بنوہاشم، بنومخذوم اور بنو امیہ ۔ جنگی امور پر نظر رکھنا بنو مخذوم کی ذمہ داری تھی ۔ اسکا کام قریش کے جنگی گھوڑوں کی دیکھ بھال اور تربیت کرنا ، مہمات کی تیاری کرنا اور میدان جنگ کے لئے اچھے جنگجو فراہم کرنا تھا ۔ بنو مخذوم کے اس کردار نے وہ ماحول فراہم کیاجس میں خالد کی تربیت ہونا تھی ۔
اسے بچپن میں ہی گھڑسواری کی تربیت دی گئی ۔مخذومی قبیلے کا فرد ہونے کے ناطے اسے گھڑسواری کے فن میں مہارت حاصل کرنا تھی اور جلد ہی اسنے اپنی صلاحیت کا لوہا منوا یا ۔لیکن صرف سدھائے گئے اور تربیت یافتہ گھوٖڑوں کو قابو کرنا کافی نہ تھا ۔ اسے غیر تربیت یافتہ اور منہ زور بچھیرے دئیے جاتے اور وہ ان کی تربیت کرکے بہترین جنگی گھوڑے بناتا ۔ بنو مخذوم عرب کے بہترین گھڑسوار تھے اور خالد بنو مخذوم کے بہترین گھڑسواروں میں سے ایک تھا۔عرب کے گھڑسوار اونٹ کے بھی بہترین سوار ہوا کرتے تھے کیونکہ اونٹ دور دراز کی مہمات کے لئے لازمی سمجھے جاتے تھے ۔
گھڑسواری کے ساتھ خالد نے جنگی فنون میں بھی مہارت حاصل کی ۔ یوں تو اسنے پیادہ اور سوار ہر قسم کی لڑائی کی تربیت حاصل کی اورتلوار، تیرکمان اور نیزے سمیت ہر قسم کا ہتھیار استعمال کرنا سیکھا لیکن گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر نیزے کے استعمال اور شمشیرزنی میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا ۔تلوار عربوں میں دلیری کی علامت سمجھی جاتی تھی کیونکہ تلوار کا مقابلہ انسان کو اپنے دشمن کے انتہائی قریب لے جاتا ہے جہاں اسکی صلاحیت کا کٹھن امتحان ہوتا ہے ۔ خالد کی تلوار اسکا سب سے قابل اعتماد ہتھیار تھا ۔
خالد لڑکپن سے جوانی کی عمر کو پہنچا ۔ بلند قدوقامت، چوڑے سینے ، مضبوط اور قوی جسم، گھنی داڑھی اور متاثرکن شخصیت کا مالک ہونے کی وجہ سے خالد جلد ہی مکہ میں مقبول ہو گیا ۔اسکی وجہ شہرت اپنے پسندیدہ کھیل کشتی کی وجہ سے تھی جہاں اسنے اپنی بہترین مہارت اور طاقت سے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ۔
عربوں کے خاندان عام طور پر کثیر افراد پر مشتمل ہوا کرتے تھے جہاں مرد اپنی نسل کی وسعت اور تسلسل کے لئے کئی شادیاں کرتے تھے ۔ الولیدکے اپنے بھائیوں کی تعداد غالباً پانچ تھی ۔ اسکے بچوں کی تعداد میسر تاریخی حوالوں کے مطابق سات تھی ۔ خالد، ولید، ہشام، عمرہ، ابو شمس اور انکی دو بہنیں جن کا نام فکتہ اور فاطمہ تھا ۔
الولید ایک مالدار آدمی تھا جسکی وجہ سے خالد نے روزگار کی فکر میں پڑے بغیر اپنا سارا وقت اپنی حربی صلاحیتوں کو نکھانے میں صرف کیا ۔ ایک مالدار گھرانے کا فرد ہونے کی وجہ سے خالد معاشی معاملات میں بے نیازی کا مظاہرہ کرتا اور ضرورت مند لوگوں کی کھل کر مدد کرتا ۔ اسکی یہ فراخدلی ایک دن اسکے لئے مصیبت کا باعث بھی بننے والی تھی ۔
گو کہ الولید ایک مالدار آدمی تھا لیکن قریش مکہ جمہوری مزاج کے لوگ تھے اور قبیلے کا ہر آدمی کام کرتا تھا ۔مالدار لوگ اس لئے کام کرتے کہ معاشرے کا ایک مفید حصہ بن سکیں ۔ الولید جسکے اپنے ہاں کئی ملازم تھے بطور لوہار کام کرتا اور فارغ وقت میں بطور قصاب قبیلے کے جانور ذبح کرتا ۔وہ ایک تاجر بھی تھا اور قبیلے کی دوسری برادریوں کے ہمراہ تجارتی قافلوں کا اہتمام کرتا ۔ ایک سے زائدمواقع پر خالد بھی ان قافلوں کے ہمراہ شام کے سفر پر گیا جہاں اسے غسان کے عربوں، تیسفون کے فارسیوں ، مصر کے قبطیوں اور بازنطینی سلطنت کے رومیوں سے ملنے کا موقع ملا۔
خالد کے کئی دوست یا ر تھے جن کے ہمراہ وہ گھڑسواری اور شکار پر جاتا ۔ بیرونی مصروفیات سے فارغ ہو کروہ محفل سجاتے جہاں شعروشاعری اور شاہانہ ضیافت کا اہتمام کیا جاتا اور اپنے شجرہ نسب کو اپنے حافظے میں تازہ کیا جاتا ۔جن دوستوں نے اس کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کیاان میں عمربن الخطاب، عمرو بن العاص، اور ابوالحکم قابل ذکر ہیں ۔ ابوالحکم جس کا نام عمرو بن حشام تھا بعد میں ابو جہل کے نام سے بھی مشہور ہوا ۔ اسکا بیٹا عکرمہ خالد کا سب سے عزیز بھتیجا اور دلی دوست تھا ۔
الولید نہ صرف اپنے بیٹوں کا باپ تھا بلکہ وہ ان کا استاد اور اتالیق بھی تھا جس سے انہوں نے جنگی فنون کی تربیت حاصل کی۔صحرا میں کیسے حرکت کرنی ہے، دشمن کے پڑاؤ کی طرف کیسے بڑھنا ہےاور کیسے اس پر حملہ آور ہونا ہے یہ سب اسباق اس تربیت کا حصہ تھے جس میں خالد بر سوں تک رہا ۔ اسے اندازہ ہوا کہ دشمن کو بے خبری میں قابوکرنا، غیر متوقع وقت اور مقام پر حملہ آور ہونا،دشمن کا پیچھا کرنا اور اسے سنبھلنے سے پہلے تہس نہس کر دینا کس قدر اہمیت کا حامل ہے ۔ اگرچہ یہ سب حربے قبائلی جھڑپوں میں استعمال ہوتے تھے لیکن برق رفتاری، حیرت کا عنصراور حرکت پزیری جیسی خصوصیات کسی بھی جنگ میں جیت کی ضمانت ہو سکتی تھیں۔
بلوغت کو پہنچنے کے بعد جنگی فنون سے خالد کو خصوصی دلچسپی رہی ۔ اسکا شوق اپنی انتہا کو پہنچا اور کامیابی اور مہم جوئی کے خیالات اسکے خوا ب و خیال پر حاوی رہے ۔اسنے جنگی میدان میں عظیم کامیابیوں کو اپنا حدف بنایا۔ مشیت ایزدی نے بھی الولید کے بیٹے خالد کا نام رہتی دنیا تک امر کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔