باب نمبر تین ۔ غزوہ احد
باب نمبر تین ۔ غزوہ احد
مکہ میں جشن کا سا سماں تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے خطرات میں گھرا قافلہ مکہ پہنچ چکا تھا۔ مدینہ کے قریب واقعہ ساحلی علاقوں سے ہو کر آنے والا یہ قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں جا چکا تھا لیکن ابو سفیان کی قیادت اور اسکے بروقت فیصلوں کی بدولت قافلہ حفاظت سے مکہ پہنچ گیا۔ قافلہ 1000 اونٹوں پر مشتمل تھا اور اسکی مالیت 50 ہزار دینار تھی۔ اس قافلے نے ہر دینار پر ایک دینار منافع کمایا تھا اور اسمیں مکہ کے تقریباً ہر خاندان کا حصہ تھا۔عرب میں اسوقت بہار کا موسم تھا اور عیسوی کلینڈر کے مطابق تاریخ مارچ 625 تھی۔
قریش مکہ اس قافلے کی واپسی پر مسرور تھے اور تاجر منافع میں اپنا حصہ ملنے کا انتظار کر رہے تھے جبکہ دوسری طرف قریش کا شکست خوردہ لشکر مکہ کی طرف آرہا تھا۔ یہ لشکر ابو سفیان کی طرف سے مدد طلب کرنے کے بعد روانہ کیا گیا تھا۔ ابو سفیان کا کہنا تھا کہ تجارتی قافلے کو مسلمانوں کی جانب سے خطرہ لاحق ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ لشکر قافلے کی مدد کو پہنچتا ابو سفیان قافلے کو بحفاظت مسلمانوں سے بچا کر نکال لایا تھا۔ لشکر کو ابو سفیان کا پیغام مل چکا تھا کی مکہ لوٹ آؤ خطرہ ٹل گیا ہے لیکن قافلے کا سالار ابو جہل کچھ اور سوچ رہا تھا۔ نبیؐ کی شدید مخالفت میں 15 سال گزارنے کے بعد وہ یہ موقع ہاتھ ہاتھ سے کہاں جانے دیتا تھا۔ اس نے مسلمانوں سے جنگ کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اسی جنگ کے نتیجے میں ذلت آمیز شکست کا مزا چکھنے کے بعد یہ لشکر بھاری قدموں سے مکہ کی جانب بڑھ رہا تھا۔ لشکر کا قاصد لشکر سے پہلے شکست کی خبر لے مکہ میں داخل ہوا۔ قاصد اپنا کرتا پھاڑ کر چلّا رہا تھا اور زبان حال سے تباہی کا نوحہ سنا رہا تھا۔ مکہ والے قاصد کے گرد جمع تھے۔ سب اپنے عزیزواقارب کے بارے میں پوچھ رہے تھے جبکہ ابو سفیان اور اسکی بیوی ہندہ حیرت سے بت بنے سب سن رہے تھے۔
ہندہ کا باپ عتبہ، اسکا چچا شیبہ، اسکا بھائی ولید اور اسکا بیٹا حنظلہ سب علی اور حمزہ کی تلوار سے مرے تھے۔ اسکی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ اسنے قسم کھائی کہ جبتک وہ اپنے پیاروں کے خون کا بدلہ نہ لے لے، اسوقت تک وہ چین سے نہیں بیٹھےگی۔